کینسر سے لڑنے والی چائے کی شوقین خاتون نے چائے کے ہی تابوت میں دفن ہونے کی خواہش کی تھی

برونسٹن ٹاؤن ہر شخص کی جیسے زندہ ہوتے کچھ خواہشات ہوتی ہیں ویسے ہی مرنے کے وقت بھی کچھ خواہشات ہوتی ہیں جبکہ موت کے اہتمام کے لیے کچھ لوگ زندہ ہوتے اپنی خواہشات کااظہار کر دیتے ہیں کہ مجھے کہاں دفن کرنا ہے،یا میرا جنازہ کون پڑھائے یا پھر مجھے کس جگہ اورکس کے ساتھ دفن کرناہے وغیرہ وغیرہ۔مگر موت سے متعلق بعض اوقات لوگ کچھ انوکھی خواہشات کرتے بھی نظر آتے ہیں جیسا کہ ایک73سالہ خاتون نے بیٹی کو ہدایت کی کہ اسے چائے کے ڈبوں سے بنے تابوت میں رکھ کر دفن کیا جائے۔
لیسیٹر شائر کے برونسٹون ٹائون کی 73 سالہ ٹینا واٹسن دن میں 40 کپ چائے پیتی تھیں، اور انہوں نے مرنے سے قبل اپنی بیٹی ڈیبس ڈونوان سے ایک انوکھی خواہش ظاہر کی ۔
ان کی بیٹی ڈیبس ڈونوان کا اپنی والدہ کے حوالے سے کہنا تھا کہ انہوں نے دو مرتبہ کینسر سے جنگ لڑی اور اسی وجہ سے ان کے دونوں پائوں کاٹ دیے گئے تھے، اس سب کے باوجود بھی انہیں دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا بہت شوق تھا۔انہوں نے مزید بتایا جب میں اور میرے والد ان کے کفن دفن کی تیاری کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے تو مجھے اچانک اپنی ماں سے ہونے والی گفتگو یاد آ گئی۔
ڈیبس نے بتایا کہ میری والدہ نے مجھ سے کہا تھا کہ جب میں مر جاو ¿ں تو مجھے ایک بڑے تابوت میں دفنایا جائے جو کہ دیکھنے میں بالکل ایک ’ٹی بیگ کے ڈبّے‘ جیسا ہو۔ ڈیبس نے کہا کہ اپنی والدہ کی یہ خواہش مجھے ایک مذاق لگی اور ان کی بات پر میں زور سے ہنسی جس پر والدہ بھی ہنسی مگر انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں بے حد سنجیدہ ہیں۔مگر ان کی موت پر ان کی یہ خواہش بیٹی نے پوری کر دی ۔ لیسیٹر کے گلروس قبرستان میں 73 سالہ ٹینا کے جنازے کا انعقاد کیا گیا، جنازے کے ڈائریکٹر کا پال پینڈر کا کہنا تھا کہ یہ اب تک کی سب سے عجیب سی خواہش تھی لیکن ہم ان کی خوشی میں ہی خوش ہیں۔
ٹینا نے اپنی بیٹی کو کہا کہ میری آخری خواہش ہے کہ مرنے کے بعد مجھے ’ٹی بیگ کے ڈبّے‘ جیسے تابوت میں ڈال کر دفن کیا جائے۔73 سالہ ٹینا واٹسن کی بیٹی کا کہنا تھا کہ میری والدہ کا ذوقِ مزاح بہت اچھا تھا اور وہ دن میں 30 سے 40 کپ چائے پیتی تھیں کیونکہ انہیں چائے بے حد پسند تھی۔
No comments:
Post a Comment